جموں:یکم جنوری (ایس او نیوز) جموں کشمیر میں واقع ماتا وشنو دیوی بھون میں بھگڈر مچ جانے کے نتیجے میں 12 نہیں بلکہ 30 سے 40 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ یہ بات ایک عینی شاہد کے حوالہ سے ہندی روزنامہ نوبھارت ٹائمز نے شائع کی ہے۔
نوبھارت ٹائمزنے ماتھا کے درشن کے لئے دہلی سے آئی ہوئی ایک خاتون عینی شاہد کے حوالے سے لکھا ہے کہ ماتھا وشنو دیوی کے درشن کے لئے رات 12 بجے ہزاروں کی بھیڑ وی وی آئی پی داخلی گیٹ نمبر پانچ کے پاس جمع ہوگئی تھی، بھیڑ کو قابو میں کرنے والا کوئی بھی نہیں تھا، گارڈس صرف وہاں کھڑے تھے، کچھ دیر میں ہی اتنا زیادہ دم گُھٹنے لگا تھا کہ میں بچنے کے لئے چلانے لگی۔ لوگوں سے واپس جانے دینے کے لئے کہنے لگی، لیکن کچھ ہی دیر میں اس جگہ کا نظارہ بدل گیا، وہاں 12 نہیں قریب تیس سے چالیس لوگوں کی موت ہوئی۔
اُدھر سرکاری ذرائع نے 12 لوگوں کے مرنے کی تصدیق کی ہے اور بتایا گیا ہے کہ مرنے والوں میں دہلی، ہریانہ، پنجاب اور جموں و کشمیر کے ایک ایک عقیدت مند شامل ہیں دیگر مہلوکین کی شناخت ہونی باقی ہے۔
واردات کے بعد مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے بتایا کہ ماتا ویشنو دیوی بھون میں کچھ عقیدت مندوں کے درمیان جھڑپ کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی تھی، واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ نتیانند رائے نے کہا کہ نئے سال کی وجہ سے بھون میں زائرین کی بھیڑ بڑھ گئی تھی اور ڈھالان پر کچھ عقیدت مندوں کے درمیان جھڑپ کی وجہ سے لوگوں کے توازن کھونے سے ایک دوسرے پر لوگ گرتے چلے گئے۔
نتیانند رائے نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور وزیر اعظم مودی خود اس معاملے میں رابطہ قائم کئے ہوئے ہیں اور صورتحال پر نظر رکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وہاں حالات معمول پر ہیں اور انتظامات قائم کرنے کے بعد تمام عقیدت مندوں کو درشن کی اجازت دی جائے گی اور کسی کو واپس نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے اور ان کے علاج میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے بھی بات کی ہے اور صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں ہیں۔